ابنا: القدس ٹي وي کے مطابق وزيراعظم اسماعيل ہنيہ نے جنگ غزہ اور اس کے نتائج کے عنوان سے ہونے والي کانفرنس کے اختتامي اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امريکي صدر کا مجوزہ دورہ اسرائيل فلسطين کي قومي آشتي کے حوالے سے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے-
انکا کہنا تھا کہ امريکي صدر کے دورہ اسرائيل سے فلسطيني گروہوں کے درميان اتفاق رائے کے حصول کي کوششيں متاثر ہونگي- فلسطين کے وزيراعظم نے فيصلہ سازي کے عمل ميں خود مختاري سے عمل کرنے اور ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کرنے کي اہميت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ قومي آشتي کي بنياد فلسطينيوں کے حقوق کي حمايت اور انکے اصولوں اور اقدار کي پاسداري پر استوار ہونا چاہيے-
فلسطين کے منتخب وزيراعظم نے يہ بات بھي زور ديکر کہي کہ فلسطين کے عوام اپني سرزمين کے ايک انچ حصے کو بھي نظرانداز نہيں کريں گے-
واضح رہے کہ فلسطيني تنظيموں نے مئي دوہزار گيارہ اور فروري دوہزار بارہ ميں قاہرہ اور دوحہ ميں قومي آشتي کے سمجھوتوں پر دستخط کئے تھے جس کے مطابق باہمي اختلافات کو ختم اور ايک وسيع البنياد قومي حکومت قائم کرنا تھا-
بعض وجوہات کي بنا پر فلسطينيوں کے درميان قومي آشتي کے معاہدے پر تاحال عملدرآمد نہيں ہوسکا ہے- امريکہ کے صدر باراک اوباما مارچ دوہزار تيرہ کے آخر ميں مقبوضہ فلسطين کا دورہ کرنے والے ہيں.
.......
/169